لندن:9/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)برطانوی وزیر مالیات فلپ ہیمنڈ نے بدھ کے روز برطانوی دارالعوام میں بجٹ پیش کیا جو برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد ملک کا پہلا بجٹ ہے۔بجٹ اجلاس کے دوران ایک موقع پر برطانویوں کی توجہ اپنی وزیراعظم ٹریزا مے کی جانب مبذول ہو گئی جنہوں نے یک دم شرارتی ڈِزنی کی طرح قہقہے لگانا شروع کر دیے۔ برطانوی اخبار میٹرو نے ٹریزا کے انداز کو شیطانی ہنسی سے تشبیہ دی ہے۔یہ صورت حال اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن کے خطاب کے دوران پیش آئی جب ٹریزا مے نے بے ساختہ طور غیر مانوس طریقے سے ہنسنا شروع کر دیا اور اس کے نتیجے میں وہ اپنی نشست پر ہِلنے لگ گئیں۔اس نرالی حالت کے حوالے سے ٹوئیٹر پر متعدد تبصرے سامنے آئے جن کے مطابق یہ واضح نہیں کہ آیا یہ محض جیرمی کوربن کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال پر آنے والی ایک ہنسی تھی یا واقعتا کسی دورے کی کیفیت جس کے علاج کی ضرورت ہے۔ایک تبصرے میں لکھا گیا کہ لگتا ہے کہ وہ دیوانگی کی حالت میں ہیں۔ ایک دوسرے تبصرے میں کہا گیا کہ یہ بات واضح ہے کہ انہیں علاج کی ضرورت ہے تاکہ اْن پر سے شریر روحوں کو بھگایا جا سکے۔